kalaam

شیعی دھرم اپنے کتب کی تاریکیوں میں ۔ سکین ورژن

117 posts in this topic

محمد بن علي بن الحسين قال: دخل أبو جعفر الباقر ( عليه السلام ) الخلاء فوجد لقمة خبز في القذر، فأخذها، وغسلها، ودفعها إلى مملوك معه، فقال: تكون معك لآكلها إذا خرجت، فلما خرج ( عليه السلام ) قال للمملوك: أين اللقمة؟ فقال: أكلتها يا بن رسول الله، فقال ( عليه السلام ): إنها ما استقرت في جوف أحد إلا وجبت له الجنة، فاذهب، فأنت حر، فإني أكره أن أستخدم رجلا من أهل الجنة

امام باقر (ع) بیت الخلاء میں داخل ہوئے ، گندگی پر ایک لقمہ روٹی کا پڑا ہوا دیکھا ، اٹھایا ، اس کو دھویا اور اپنے غلام کو دیا جو ان کے ساتھ تھا، اور فرمایا ، اس کو اپنے پاس رکھو ، میں بیت الخلاء سے آوں گا تو مجھے دینا میں کھا لوں گا۔ مگر غلام نے کھا لیا ، آپ جب بیت الخلاء سے نکلے ، لقمہ مانگا تو غلام نے کہا کہ وہ میں نے کھا لیا تو اس پر فرمایا کہ جس پیٹ میں وہ لقمہ گیا اس پر جنت واجب ہوگئی ۔ جا تو آزاد ہے میں جنت والے سے خدمت لینا نہیں چاہتا۔

وسائل الشیعہ ، باب أن من دخل الخلاء فوجد لقمة خبز في القذر

من لا یحضرہ الفقیہ ، ج ۱ ،ص ۱۸

محمد بن يعقوب ، عن محمد بن يحيى ، عن أحمد بن محمد ، عن اسماعيل بن همام ، عن علي بن جعفر قال : سألت أبا الحسن موسى ( عليه السلام ) عن الرجل يقبل قبل امرأته ؟ قال : لا بأس

علی بن جعفر نے امام موسٰی کاظم سے سوال کیا کہ مرد اپنی بیوی کی شرمگاہ کو چوم سکتا ہے؟ فرمایا کوئ حرج نہیں

تھذیب الاحکام ج ۷ ص ۴۱۳

وسائل الشیعہ باب جواز تقبيل الرجل قبل زوجته ومباشرته

عن عبيد الله الدابقي قال: دخلت حماما بالمدينة فإذا شيخ كبيرو هو قيم الحمام فقلت: يا شيخ لمن هذا الحمام؟ فقال: لابي جعفر محمد بن علي بن الحسين عليهم السلام فقلت: كان يدخله؟ قال: نعم، فقلت: كيف كان يصنع؟ قال: كان يدخل فيبدء فيطلي عانته وما يليها ثم يلف على طرف إحليله ويدعوني فاطلي سائر بدنه، فقلت له يوما من الايام: الذي تكره أن أراه قد رأيته، فقال: كلا إن النورة سترة

عبیداللہ الدابقی سے مروی ہے کہ میں مدینہ کے ایک حمام میں گیا۔ میری نظر ایک بوڑھے پر پڑی جو حمام کا نگران تھا۔ میں نے اس سے پوچھا یہ حمام کس کا ہے تو اس نے کہا یہ امام باقر کا ہے۔ میں نے کہا وہ خود بھی آتے ہیں یہاں پر؟ اس نے کہا جی ہاں آتے ہیں۔ میں نے کہا وہ یہاں آ کر کیا کرتے ہیں۔ تو اس نے کہا وہ حمام میں داخل ہوتے ہی اپنی شرم گاہ پر طلا لگا لیتے ہیں۔ بعد ازاں آلہ تناسل پر پٹی باندھ لیتے ہیں۔ اور پھر مجھے بلا لیتے ہیں تو میں ان کے باقی جسم پر طلا لگا لیتا ہوں۔ میں نے ایک دن ان سے کہا ، حضرت جس کو آپ دیکھنا پسند نہیں فرماتے میں تو اس کو دیکھ لیتا ہوں ، فرمایا ! ہرگز نہیں جب چونا لگا ہوا ہو تو پردہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اے عبداللہ تجھے چونا نظر آتا ہے مگر آلہ تناسل تو مستور ہوتا ہے۔

الکافی ، باب الحمام

عن ابان بن تغلب قال: سمعت ابا عبد الله عليه السلام يقول: كان ابي عليه السلام يفتي في زمن بني امية أن ما قتل البازي والصقر فهو حلال وكان يتقيهم وان لا أتقيهم وهو حرام ما قتل

ابان بن تغلب سے مروی ہے کہ امام جعفر صادق نے فرمایا : میرے والد امام باقر بنو امیہ کے دور میں تقیہ کرتے ہوئے یہ فتوٰی دیتے تھے کہ جس جانور کو باز یا شکرہ مار ڈالے وہ حلال ہے۔ میں چونکہ تقیہ نہیں کرتا اس لئے میرا فتوٰی یہی ہے کہ ان دونوں کا مارا ہوا جانور حرام ہے۔

تهذيب الأحكام ج ۹ ص ۳۲

فروع کافی ج ۶ ص ۲۰۸

علي بن إبراهيم، عن محمد بن عيسى، عن بعض أصحابنا، عن أبي الحسن موسى (عليه السلام) قال: إن الله عزوجل غضب على الشيعة

امام موسٰی کاظم سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : بے شک شیعہ پر اللہ تعالٰی کی پھٹکار ہوئی۔

اصول کافی ج ۱ ، ص ۲۸۶

عن أبي بصير قال: قال أبوعبدالله عليه السلام: اصول الكفر ثلاثة: الحرص، والاستكبار، والحسد، فأما الحرص فان آدم عليه السلام حين نهي عن الشجرة، حمله الحرص على أن أكل منها

ابوبصیر سے روایت ہے کہ امام جعفر صادق نے فرمایا : اصولِ کفر تین ہیں ۔ حرص ، تکبر اور حسد۔ حرص (یعنی پہلا اصول کفر) تو حضرت آدم (علیہ السلام) میں تھا۔ جب انہیں درخت کے کھانے سے منع کیا گیا تو حرص نے انہیں درخت کے کھانے پر ابھارا۔

اصول کافی ج ۲ ص ۲۸۹

حدَّثني أبي ؛ وعليُّ بن الحسين؛ وجماعة مشايخي ـ رحمهم الله ـ عن سعد بن عبدالله ، عن أحمدَ بن محمّد ؛ ومحمّد بن الحسين ، عن محمّد بن إسماعيلَ بن بزيع ، عن صالِح بن عُقْبة ، عن زَيد الشَّحّام «قال : قلت لأبي عبدالله عليه السلام : ما لِمَن زار قبر الحسين(2) عليه السلام؟ قال : كان كمن زارَ الله في عَرشه

(بحذفِ سند) امام جعفر صادق سے پوچھا گیا ’’کیا فرماتے ہیں اس شخص کے بارے میں جو امام حسین (ع) کی قبر کی زیارت کرتا ہے۔ فرمایا : وہ تو اس کی مانند ہے جو اللہ کی زیارت اس کے عرش پر کریں۔

کامل الزیارات ص ۱۵۹ ، الباب التّاسع والخمسون ، إنّ مَن زار الحسين عليه السلام كان كمن زار الله في عَرشه

فقال له : إني قد حججت تسعة عشر حجة فادع الله أن يرزقني تمام العشرين حجة ، قال : هل زرت قبر الحسين ؟ قال : لا ، قال : لزيارته خير من عشرين

امام جعفر صادق سے ایک شخص نے کہا : میں نے ۱۹ حج کئے ہیں، اللہ تعالٰی سے دعا کیجئے کہ میں ۲۰ حج پورے کر سکوں۔ امام صاحب نے فرمایا : کیا امام حسین (رض) کے قبر کی زیارت کی ہے؟ کہا : نہیں۔ امام صاحب نے فرمایا : اس کی زیارت ۲۰ حج سے بہتر ہے۔

وسائل الشیعہ باب استحباب اختيار زيارة الحسين ( عليه السلام ) على الحج والعمرة المندوبين

عن أحمد بن محمد، عن أبي يحيى الواسطي، عن بعض أصحابه، عن أبي الحسن الماضي (عليه السلام) قال: العورة عورتان: القبل والدبر، والدبر مستور بالاليتين (1) فإذا سترت القضيب والبيضتين فقد سترت العورة.

امام ابو الحسن فرماتے ہیں ۛ ڈھانپنے کے لائق جسم میں صرف دو حصے ہیں۔ قبل اور دبر۔ پھر دبر تو سرین کے درمیان خود ڈھکی ہوءی ہے۔ اس لئے جب تم نے قبل ﴿آلہ تناسل اور خصیتین﴾ کو ڈھانپ لیا تو ستر عورت کر لیا۔

وسائل الشیعہ ج ۲ ص ۳۴

محمد بن يحيى، عن محمد بن أحمد، عن عمر بن علي بن عمر بن يزيد، عن عمه محمد بن عمر، عن بعض من حدثه أن أبا جعفر عليه السلام كان يقول: من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل الحمام إلا بمئزر، قال: فدخل ذات يوم الحمام فتنور فلما أن أطبقت النورة على بدنه ألقى المئزر فقال له مولى له: بأبي أنت وامي إنك لتوصينا بالمئزر ولزومه وقد ألقيته عن نفسك؟ فقال: أماعلمت أن النورة قد أطبقت العورة

امام باقر نے فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ حمام میں کپڑا باندھے بغیر داخل نہ ہو۔ راوی کہتا ہے کہ ایک روز آپ حمام میں داخل ہوئے اپنے بدن پر چونا لگایا جب سارے بدن پر مل لیا تو چادر کمر سے اتار پھینک دی۔ غلام نے کہا قربان جاوں آپ ہمیں تاکید فرماتے تھے حمام میں کپڑا باندھے بغیر داخل نہ ہو۔ آپ نے اپنی چادر ہی اتار پھینک دی۔ فرمایا کہ تم نہیں جانتے کہ شرم گاہ کو چونا نے چھپا لیا ہے۔ ستر عورت تو ہو گیا۔ اب چادر کے تکلف کی کیا ضرورت رہ گئ۔

الکافی ، باب الحمام

علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن غير واحد، عن أبي عبدالله (عليه السلام) قال: النظر إلى عورة من ليس بمسلم مثل نظرك إلى عورة الحمار

امام جعفر فرماتے ہیں کہ غیر مسلم کی شرم گاہ کو دیکھنا ایسا ہے جیسا گدہے کی شرمگاہ کو دیکھنا۔

فروع کافی ج ٦ ص ۵۰١

محمد بن يحيى، عن محمد بن أحمد، عن عمر بن علي بن عمر بن يزيد، عن عمه محمد بن عمر، عن بعض من حدثه أن أبا جعفر عليه السلام كان يقول: من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل الحمام إلا بمئزر، قال: فدخل ذات يوم الحمام فتنور فلما أن أطبقت النورة على بدنه ألقى المئزر فقال له مولى له: بأبي أنت وامي إنك لتوصينا بالمئزر ولزومه وقد ألقيته عن نفسك؟ فقال: أماعلمت أن النورة قد أطبقت العورة

امام باقر ﴿ع﴾ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ حمام میں بغیر پائجامہ کے نہ داخل ہو پھر امام ممدوح ایک دن حمام میں گئے اور چونہ لگایا۔ جب چونہ لگ گیا تو پائجامہ اتار پھینک دیا۔ ان کے ایک غلام نے ان سے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، آپ ہم کو پائجامہ پہننے کی تاکید کرتے ہیں مگر خود آپ نے اتارا ڈالا۔ تو امام نے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ چونہ نے ستر کو چھپا لیا۔

الکافی، باب الحمام

Edited by kalaam
1

Share this post


Link to post
Share on other sites

imams-birth-haqulyaqin-v1-p356.png

یہی روایت شیخ یوسف البحرانی نے ’’کشکول‘‘ کے ج ۳ ص ۱۹ پر بھی درج کی ہے۔

kashkol-6.jpg

Edited by kalaam
0

Share this post


Link to post
Share on other sites

ثم كان محمد بن علي أبا جعفر وكانت الشيعة قبل أن يكون أبوجعفر وهو لايعرفون مناسك حجهم وحلالهم وحرامهم حتى كان أبوجعفر ففتح لهم وبين لهم مناسك حجهم وحلالهم وحرامهم

پھر امام باقر آئے۔ ان سے پہلے تو شیعہ مناسک حج اور حلال و حرام سے بھی واقف نہ تھے۔ یہاں تک کہ امام باقر آئے اور ان کے لئے حج کے مناسک اور حلال و حرام میں تمیز کا دروازہ کھولا

الکافی باب دعائم الاسلام

فنزل جبرئيل عليه السلام (3) وقال: أقرأ يا محمد، قال: وما أقرأ ؟ قال أقرأ: " ألم نشرح لك صدرك * ووضعنا عنك وزرك * الذي أنقض ظهرك * ورفعنا لك ذكرك (4)، بعلي صهرك ؟ فقال: فقرأها صلى الله عليه وآله وأثبتها ابن مسعود في مصحفه فأسقطها عثمان

مقداد بن اسود سے مروی ہے کہ جبرئیل (ع) نے فرمایا : پڑھ اے محمدﷺ ، انہوں نے کہا : کیا پڑھوں؟ فرمایا : پڑھ : کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں فرما دیا اور ہم نے آپ کا بار آپ سے اتار دیا جو آپ کی پشت پر گراں ہو رہا تھا اور ہم نے آپ ﷺ کا ذکر بلند کیا علی کی وجہ سے ، جو کہ آپ کا داماد ہے۔ پھر (مقداد بن اسود نے) فرمایا ، آنحضرت ﷺ اسے یوں ہی پڑھتے تھے، اور ابن مسعود کے مصحف میں ایسا ہی تھا، پھر حضرت عثمان نے اسے ہٹا دیا۔

بحار الانوار ج ۳۶ ص ۱۱۶

khomeini-4.png

Edited by kalaam
0

Share this post


Link to post
Share on other sites

abutalib-majma-ul-fazail-v1-p10.PNG

14-sitaray-1.jpg

Edited by kalaam
0

Share this post


Link to post
Share on other sites

haqqul-yaqin-v2-p18.jpg

haqqul-yaqin-v2-p331.png

Edited by kalaam
0

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہم اس خدا کی پرستش کرتے ہیں جس کے کام پختہ عقل پرمبنی هوں اور عقل کے خلاف فیصلے نہ کرے ہم ایسے خدا کو نہیں مانتے جو خداپرستی انصاف اور دین داری کی ایک مضبوط وبلند عمارت بنائے اور خود ہی اپنے ہاتهہ سے اس کو برباد کردے اور یزید ، معاویہ ، اور عثمان اور ان جیسے بدمعاش لوگوں کو امیر بنادے

kashaful-asrar-5.jpg

ملا باقر مجلسی المجوسی اپنی کتاب ’’روضۃ المتقین‘‘ میں بکتا ہے

معاویہ (رض) اور عائشہ (رض) دین سے خارج ہیں، اور وہ ہرگز مسلمانوں میں سے نہیں ہیں، اور یہ انکار انکے کفر کے اسباب میں سے ہے۔

روضۃ المتقین ج ۲ ص ۲۱۸

rawzatul-mutaqeen-2.jpg

Edited by kalaam
0

Share this post


Link to post
Share on other sites

سید حسن ابطحی ، اہلِ تشیع کا آیت اللہ، اپنی کتاب ’’انوار الزہرا‘‘ میں لکھتا ہے کہ ’’حضرت فاطمہ رضي الله عنها کو سجدے کرنا واجب ہے اور سجدوں میں سو مرتبہ ( يا مولاتي يا فاطمة أغيثيني ) پڑهنا واجب ہے‘‘

انوار الزہرا ، ص ۴۵

anwar-al-zuhra-4.jpg

ملا مجلسی اپنی کتاب بحار الانوار میں لکھتا ہے کہ

امام علی بن حسین سے حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کے متعلق پوچھا گیا ، تو فرمایا کہ وہ دو کافر ہیں، اور جو ان سے محبت رکھے ، وہ بھی کافر ہے۔

بحار الانوار ج ۲۸ ص ۱۹۹

bihar-al-anwar-vol28-p199.jpg

محمد طاہر بن محمد حسین القُمی ملعون اپنی کتاب ’’الأربعين في إمامة الأئمة الطاهرين‘‘ میں لکهتا ہے کہ

عائشہ (رضی اللہ عنہا) كافرة ہے اور جہنم کی آگ کے مستحق ہے۔

الأربعين في إمامة الأئمة الطاهرين ص615

arbaen-4.jpg

Edited by kalaam
0

Share this post


Link to post
Share on other sites

عورت کی شرم گاہ پر بھی تیمم کیا جا سکتا ہے۔

tayammum1.jpg

adam-ilal-saduq-1.png

Edited by kalaam
0

Share this post


Link to post
Share on other sites

امام ابوجعفر سے پوچھا گیا کہ کیا متعہ چار میں سے ہے؟ امام صاحب نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ ستر میں سے بھی نہیں

مطلب شادیاں چار جائز ہیں ، متعہ ان میں سے نہیں ، متعہ کی حد ستر بھی نہیں، بلکہ متعہ آپ جس قدر چاہے کر سکتے ہیں۔

Edited by kalaam
0

Share this post


Link to post
Share on other sites

امام جعفر سے متعہ کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا (ایسی عورت جس سے متعہ کیاگیا ہو) چار میں سے ہے؟ امام صاحب نے جواب دیا۔ ایک ہزار سے تو تزویج کرو، یہ تو مستاجرات ہیں۔

مستاجرات یعنی جو رینٹ پر لی گئ ہو۔

0

Share this post


Link to post
Share on other sites

18plus-manlayahdharuhulfaqih-2.PNG

18plus-manlayahdharuhulfaqih-1.PNG

18plus-manlayahdharuhulfaqih-3.PNG

0

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now