Sign in to follow this  
Followers 0
kalaam

شیعی دھرم اپنی کتب کی تاریکیوں میں ۔ آن لائن ورژن

12 posts in this topic

[right][font=jameel noori nastaleeq][size=6]السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اس سے پہلے ہم نے اسی نام سے ایک ٹوپک میں شیعی کتب کے سکین پیش کئے ہیں۔ یہاں پر ان حوالہ جات کو جمع کرنے کی کوشش کی جائیگی جن کے سکین موجود نہ ہوں لیکن آن لائن شیعہ ویب سائٹس پر موجود ہوں۔[/size][/font][/right]
0

Share this post


Link to post
Share on other sites
[right][u][font=jameel noori nastaleeq][color=#A52A2A][size=6]حضرت عائشہ، حضرت معاویہ، حضرت زبیر اور دیگر اصحاب رسول (ص) پر تکفیر[/size][/color][/font][/u]

[font=arial][b][size=5]واتفقت الإمامية و الزيدية و الخوارج على أن الناكثين و القاسطين من أهل البصرة و الشام أجمعين كفار ضلال ملعونون بحربهم أمير المؤمنين (عليه السلام) و أنهم بذلك في النار مخلدون[/size][/b][/font]

[font=jameel noori nastaleeq][size=6]امامیہ، زیدیہ اور خوارج نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ ناکثین اور قاسطین اہل بصرہ اور اہل شام میں سے ہیں، جو کہ کافر ، گمراہ اور ملعون ہیں اس وجہ سے کہ انہوں نے امیر المومنین (یعنی حضرت علی) سے لڑائی کی اور اس وجہ سے وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔[/size][/font]

[b][font=arial][size=5]اوائل المقالات , ص 42 , للشيخ مفيد (336 - 413)ه‍))) ), دار المفيد بيروت[/size][/font][/b][/right]
0

Share this post


Link to post
Share on other sites
[right][b][size=5]أحمد بن محمد عن على بن الحكم عن شعيب العقرقوفى عن أبى بصير عن أبى عبدالله (عليه السلام) قال: كان سليمان عنده اسم الله الاكبر الذى اذا سئل به أعطى، واذا دعى أجاب ولوكان اليوم لاحتاج الينا[/size][/b][/right]

[right][font=jameel noori nastaleeq,arial][size=6]ابوبصیر نے بیان کیا کہ ابوعبداللہ علیہ السلام نے فرمایا: سلیمان علیہ السلام کے پاس اللہ کا اسمِ اکبر تھا جس کے ذریعے وہ جو سوال کرتے، پورا ہو جاتا اور جو دعا کرتے ، قبول ہو جاتی۔ اور اگر وہ آج ہوتے تو ہمارے ہی محتاج ہوتے۔[/size][/font][/right]


[right][size=5][font=arial,helvetica,sans-serif][b]تفسير نور الثقلين ج 4 ص 458[/b][/font][/size][/right] Edited by kalaam
0

Share this post


Link to post
Share on other sites
[right][b][size=5]حدثنا محمد بن الحسين عن عبد الرحمن بن ابى نجران عن هاشم عن سالم بن ابى سلمة قال قرء رجل على ابى عبد الله عليه السلام وانا اسمع حروفا من القرآن ليس على ما يقرأها الناس فقال أبو عبد الله عليه السلام مه مه آف عن هذه القرائة اقراء آما يقرء الناس حتى يقوم القائم فإذا قام فقراء آتاب الله على حده واخرج المصحف الذى آتبه على عليه السلام وقال اخرجه على عليه السلام إلى الناس حيث فرغ منه وآتبه فقال لهم هذا آتاب الله آما انزل الله على محمد وقد جمعته بين اللوحين قالوا هوذا عندنا مصحف جامع فيه القرآن لا حاجة لنا فيه قال اما والله لاترونه بعد يومكم هذا ابدا انما آان على ان اخبرآم به حين جمعته لتقرؤه[/size][/b][/right]

[right][size=5][size=6][font=jameel noori nastaleeq,arial]سالم بن ابی سلمہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے ابوعبداللہ علیہ السلام کے سامنے قرآن میں سے کچھ حروف کوپڑھا، جبکہ میں سن رہا تھا۔ وہ اس طرح نہیں تھا جس طرح لوگ پڑھتے تھے۔ ابوعبداللہ علیہ السلام نے فرمایا : ٹھرو ٹھرو، اس قراءت سے رک جاؤ، تم اسی طرح پڑھو جس طرح لوگ پڑھتے ہیں، حتٰی کہ جب ہمارا قائم علیہ السلام قیام کرے تو وہ کتاب اللہ کو اس کی حد کے مطابق پڑھے اور وہ ایک مصحف نکال کر لائے جسے علی علیہ السلام نے لکھا ہے۔ پھر فرمایا : اس مصحف کو علی علیہ السلام لوگوں کی طرف اس وقت لے کر گئے جب اس کی لکھائی سے فارغ ہوئے اور ان سے فرمایا : یہ اللہ کی کتاب ہے جس طرح اللہ نے اس کتاب کو محمد ﷺ پر نازل کیا تھا، بے شک میں نے اسے دو تختیوں کے درمیان جمع کر دیا ۔ وہ کہنے لگے : ہمارے پاس وہ مصحفِ جامع ہے جس میں قرآن ہے۔ ہمیں اس قرآن کی کوئی ضرورت نہیں۔ پھر علی علیہ السلام نے فرمایا : ضرور، اللہ کی قسم! آج کے بعد اسے کبھی نہیں دیکھو گے ، میرے ذمہ یہ بات تھی کہ میں تم تک پہنچا دوں، جبکہ میں نے اس کو جمع کیا تاکہ تم اسے پڑھ سکو۔[/font][/size][/size][/right]

[right][b][size=5][font=arial,helvetica,sans-serif]بصائر الدرجات, محمد بن الحسن الصفار, ص 213[/font][/size][/b][/right] Edited by kalaam
0

Share this post


Link to post
Share on other sites
[right][b][size=5]حدثنا أحمد بن الحسين عن الحسين بن راشد عن علي بن مهزيار عن الحسين بن سعيد قال وحدثوني جميعا عن بعض أصحابنا عن عبد الله بن حماد عن سيف التمار قال كنا مع أبي عبد الله عليه السلام في الحجر فقال علينا عين فالتفتنا يمنة ويسرة وقلنا ليس علينا عين فقال ورب الكعبة ثلث مرات انى لو كنت بين موسى والخضر لأخبرتهما انى اعلم منهما ولأنبأتهما بما ليس في أيديهما[/size][/b][/right]

[right][font=jameel noori nastaleeq,arial][size=6]سیف التمار نے بیان کیا کہ ہم امام ابوعبداللہ علیہ السلام کے ساتھ اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ ایک حجرہ میں تھے، تو آپ ﷺ ہماری طرف مڑے، اور فرمایا : یہاں کوئی جاسوس تو نہیں؟ ہم نے دائیں بائیں دیکھ کر کہا : جاسوس تو کوئی نہیں۔ آپ نے تین دفعہ فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! اگر میں موسٰی و خضر علیہ السلام کے درمیان ہوتا تو انہیں بتاتا کہ میں ان دونوں سے بڑا عالم ہوں، اور میں انہیں وہ خبر دیتا جو ان دونوں کے پاس نہیں۔[/size][/font][/right]

[right][size=5][b][font=arial,helvetica,sans-serif]بصائر الدرجات, محمد بن الحسن الصفار, ص 250[/font][/b][/size][/right]
0

Share this post


Link to post
Share on other sites
[right][size=5][b]عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده [ر: آبائه] عليهم السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ان الله تبارك وتعالى عرض ولاية علي بن أبي طالب عليه السلام على أهل السماوات وأهل الأرض فقبلوها ما خلا يونس بن متى فعاقبه الله وحبسه في بطن الحوت لانكاره ولاية أمير المؤمنين [علي بن أبي طالب عليه السلام. ر] حتى قبلها.[/b][/size][/right]

[right][font=jameel noori nastaleeq,arial][size=6]جعفر بن محمد نے اپنے آباؤ اجداد سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالٰی نے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت زمین اور آسمان میں رہنے والوں پر پیش کی، تو سب نے قبول کیا، سوائے حضرت یونس بن متی علیہ السلام کے، تو اللہ تعالٰی نے ان کو مچھلی کے پیٹ میں بند کر دیا کیونکہ انہوں نے حضرت علی کی ولایت کا انکار کیا تھا، یہاں تک کہ اس نے قبول کر لیا۔[/size][/font][/right]

[right][b][size=5]تفسیر فرات الکوفی، ص 264[/size][/b][/right]
0

Share this post


Link to post
Share on other sites
[right][b][size=5]الحسين بن محمد عن معلى بن محمد عن جعفر بن محمد عن عبيد الله عن محمد بن عيسى القمي عن محمد بن سليمان عن عبد الله بن سنان عن أبي عبد الله عليه السلام في قوله: " ولقد عهدنا إلى آدم من قبل كلمات في محمد وعلى وفاطمة والحسن والحسين والأئمة عليهم السلام من ذريتهم فنسى " هكذا والله أنزلت على محمد صلى الله عليه وآله[/size][/b][/right]

[right][size=6][font=jameel noori nastaleeq,arial]عبداللہ بن سنان نے امام جعفر سے روایت کی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی ( [/font][/size][b][size=5]ولقد عهدنا إلى آدم من قبل كلمات في محمد وعلى وفاطمة والحسن والحسين والأئمة عليهم السلام من ذريتهم فنسى[/size][/b][size=6][font=jameel noori nastaleeq,arial] ) اور ہم نے آدم کو محمد، علی، فاطمہ ، حسن اور حسین اور ان کی ذریت میں ہونے والے ائمہ کی ولایت کی وصیت کی تو انہوں نے فراموش کر ڈالا۔[/font][/size][/right]

[right][b][size=5]تفسیر نور الثقلین ج 3 ص 400[/size][/b][/right] Edited by kalaam
0

Share this post


Link to post
Share on other sites
^
[url="http://islamic-forum.net/index.php?showtopic=13293"][size=6][font=jameel noori nastaleeq]شیعی دھرم اپنے کتب کی تاریکیوں میں ۔ سکین ورژن[/font][/size][/url]
0

Share this post


Link to post
Share on other sites
[right][b][size=5]عن زرارة قال قلت لأبي عبد الله عليه السلام: ان قلنسوتي وقعت في بول فأخذتها فوضعتها على رأسي ثم صليت فقال: لا بأس[/size][/b][/right]

[right][size=6][font=jameel noori nastaleeq]زرارہ سے مروی ہے کہ میں نے امام جعفر علیہ السلام سے کہا : میری ٹوپی پیشاب میں گر گئی، میں نے اٹھا کر اپنے سر پر رکھ لی اور پھر نماز پڑھ لی۔ تو آپ نے فرمایا : کوئی مضائقہ ہی نہیں۔ [/font][/size][/right]

[right][url="http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/1162_%D8%AA%D9%87%D8%B0%D9%8A%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D8%A3%D8%AD%D9%83%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE-%D8%A7%D9%84%D8%B7%D9%88%D8%B3%D9%8A-%D8%AC-%D9%A2/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_358"][size=5]تہذیب الاحکام ج 2 ص 358[/size][/url][/right] Edited by kalaam
0

Share this post


Link to post
Share on other sites
[right][b][font=arial,helvetica,sans-serif][size=5]الحسين بن سعيد عن فضالة ومحمد بن أبي عمير عن معاوية بن عمار قال سألت أبا عبدالله عليه السلام عن الرجل يعبث بذكره في الصلاة المكتوبة فقال: لا بأس به[/size][/font][/b][/right]

[right][size=6][font=jameel noori nastaleeq]معاویہ بن عمار سے مروی ہے کہ میں نے امام جعفر سے پوچھا اس شخص کے بارے میں جو کہ اپنے آلہ تناسل کے ساتھ کھیلتا ہے بحالت نماز میں ، آپ نے فرمایا : کوئی مضائقہ ہی نہیں۔[/font][/size][/right]

[right][font=arial,helvetica,sans-serif][b][size=5]تہذیب الاحکام ج 1 ص 346[/size][/b][/font][/right]

[right][font=jameel noori nastaleeq][size=5]اس روایت کو محقق بحرانی نے الحدائق الناضرہ ج 2 ص 114 میں صحیح قرار دیا ہے۔ اور اس طرح کی دیگر احادیث بیان کر کے ثابت کیا ہے کہ شیعہ کے ہاں دوران نماز شرمگاہ کے ساتھ کھیلنے میں کوئی حرج نہیں۔[/size][/font][/right]
0

Share this post


Link to post
Share on other sites
[right][size=5]حدثنا محمد بن أحمد السناني رضي الله عنه قال: حدثنا حمزة بن القاسم العلوي قال: حدثنا جعفر بن مالك الكوفي قال: حدثنا جعفر بن سليمان المروزي عن سليمان بن مقبل المدايني قال: قلت لأبي الحسن موسى بن جعفر عليه السلام لأي علة يستحب للانسان إذا سمع الآذان أن يقول كما يقول المؤذن وإن كان على البول والغائط؟ قال إن ذلك يزيد في الرزق[/size][/right]

[right][size=6][font=jameel noori nastaleeq][color=#141823]سلیمان بن مقبل المدائنی بیان کرتا ہے کہ میں نے امام موسی بن جعفر سے کہا : کس وجہ سے انسان کے لئے مستحب ہے کہ اگرچہ وہ پیشاب یا پاخانہ بھی کر رہا ہو تو موذن کے کلمات دہرائے جب وہ اذان دے رہا ہو۔ فرمایا کہ اس سے رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔[/color][/font][/size][/right]

[right]
[size=5][color=#141823][font=lucida grande', tahoma, verdana, arial, sans-serif]علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج ١ - الصفحة ٢٨٥
باب العلة التي من أجلها يجوز أن يقول المتغوط وهو على الخلاء كما يقول المؤذن، ويذكر الله عز وجل[/font][/color][/size][/right] Edited by kalaam
0

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0