Yasir

شیعہ کا عقیدہ تحریف قرآن

3 posts in this topic

[size=6][font=jameel noori nastaleeq]راوی نے حضرت ابو عبداللہ علیہ سلام سے پوچھا کتنے دن میں قرآن ختم کروں۔ فرمایا پانچ دن یا سات دن میں ، میرے پاس قرآن کا ایک ایسا نسخہ ہے جو چودہ اجزاء پر تقسیم کیا گیا ہے تاکہ ہر ماہ میں دو بار ختم ہو ۔ (اصول کافی اردو۔ جلد 5۔کتاب فضل القرآن۔ صفحہ 290)[/font][/size]

[size=6][font=jameel noori nastaleeq]راوی کہتا ہے میں نے امام رضا علیہ سلام سے کہا کہ ہم جس طرح آیات قرآن کو سنتے ہیں ہمارے پاس وہ نہیں اور نہ ہم اس طرح پڑھتے ہیں جیسے آپ تو کیا ہم گنہگار ہوتے ہیں؟ فرمایا نہیں جس طرح تمہیں سکھایا گیا ہے اسی طرح پڑھتے جاؤ۔ عنقریب وہ آنے والا ہے (بارھواں امام) جو تمہیں (اصل قرآن) کی تعلیم دے گا۔ (اصول کافی اردو ۔ جلد 5۔ کتاب فضل القرآن ۔ صفحہ 292)[/font][/size]

[size=6][font=jameel noori nastaleeq]علی پھر نبی کے بعد زندہ رہنے والوں کے پاس آئے اور کہا یہ قرآن ہے اور ویسے ہی ہے جس حالت میں نازل ہوا تھا تو عمر نے کہا ہمیں تمہاری اور تمہارے قرآن کی کوئی ضرورت نہیں ہمارے پاس عثمان کا لکھا ہوا قرآن ہے تو علی نے کہا آج کے بعد تم اسے دیکھو گے اور نہ کوئی اور یہاں تک کہ میرا بیٹا مہدی ظاہرہو گا اور اس قرآن مین بہت ساری زیادات تھیں ساتھ میں تحریف سے بھی خالی تھا اور عثمان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مصلحت کی وجہ سے کاتب بنایاتھا تاکہ آپ کو نہ جھٹلائے (الانوار النعمانیہ از نعمت اللہ الجزائری۔ جلد 2۔ نور فیما یختص بالصلوۃ۔ ص 247)[/font][/size]

[size=6][font=jameel noori nastaleeq]ہمارے پاس جامعہ ہے لوگ کیا جانیں جامعہ کیا ہے میں نے کہا۔ حضور بتائیں جامعہ کیا ہے۔ فرمایا وہ ایک صحیفہ ہےستر ہاتھ لمبا رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ سے، اور رسول اللہ نے اس کو اپنے دہن مبارک سے بیان فرمایا اور حضرت علی نے اپنے ہاتھ سے اس کو لکھا اس میں تمام حلال و حرام کا ذکر ہے اور ہر اس شئے کا جس کی احتیاج لوگوں کو ہوتی ہے یہاں تک کہ ہلکے سے خراش کی دیت کا بھی ذکر ہے۔
ہمارے پاس جفر بھی ہے لوگ کیا جانیں جفر کیا ہے۔ میں نے پوچھا حضور جفر کیا ہے فرمایا وہ ایک ظرف ہے آدم کے وقت سے جس میں اوصیا اور انبیاء کے علم کا ذکر اور ان تمام علما کے علم کا جو بنی اسرائیل میں ہوچکے ہیں۔ میں نے کہا کہ وہ کیا ہے؟ فرمایا تمہارے اس قرآن سے وہ مصحف تین گنا زیادہ ہے۔ تمہارے قرآن میں ایک حرف ہے یعنی اجمال ہے میں نے کہا واللہ اعلم یہ ہے۔ فرمایا صرف یہی نہیں، پھر خاموش رہ کر فرمایا۔ ہمارے پاس علم ماکون و مایکون ہے قیامت تک کے واقعات کا۔ میں نے کہا واللہ اس کو علم کہتے ہیں فرمایا۔ اس کے علاوہ بھی ہے میں نے پوچھا وہ کیا ہے فرمایا۔ جو حادثے رات و دن میں ہوتے ہیں اور جو ایک امر دوسرے کے بعد اور ایک شے دوسری شے کے بعد دنیا میں ہوتی ہے اور قیامت تک ہوتی رہے گی ہمیں اس کا بھی علم ہے۔ (اصول کافی اردو۔ جلد 2۔ کتاب الحجت۔ صفحہ 123)[/font][/size]

[size=6][font=jameel noori nastaleeq]اس کے بعد (حضرت علی رضی اللہ عنہ)تمام قرآن اس جامہ میں جمع کیا ہے اورکوئی آیت نازل نہیں ہوئی ہے مگر جناب رسول خدا ﷺ نے مجھ کو بتائی اور اس کی تاویل سے مجھے آگاہ فرمایا۔ قیامت میں نہ کہنا کہ ہم اس سے غافل تھے۔ اور یہ نہ کہنا کہ میں نے تم کو اپنی مدد کے لئے نہیں بلایا اور اپنے حق کو تمہیں یاد نہیں دلایا اور تم کو کتاب خدا کی جانب دعوت نہیں دی۔ عمر نے کہا جس قدر قرآن سے ہمارے پاس ہے ہمارے لئے کافی ہے ہم کو تمہارے قرآن کی احتیاج نہیں ہے حضرت نے فرمایا پھر اس قرآن کو نہ دیکھو گے۔ یہاں تک کہ مہدی میری اولاد میں سے اس کو ظاہر کرےگا۔ (حق الیقین اردو از ملا باقر مجلسی۔ جلد 1۔ صفحہ 183)[/font][/size]

[attachment=6939:Post 15.jpg]

[attachment=6940:Post 16.jpg]

[attachment=6941:Post 19.jpg]

[attachment=6942:Post 20.jpg]

[attachment=6943:Post 51.jpg]
0

Share this post


Link to post
Share on other sites
[right]ان سے بڑے کافر اس دنیا میں نہیں[/right]
0

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now